پاک چین اقتصادی تعاون 2025

پاک چین اقتصادی تعاون: بیجنگ میں تاریخی B2B کانفرنس، معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلے ھیں۔

پریس ریلیز (بیجنگ/اسلام آباد): پاکستان کے وزیراعظم کی سرپرستی میں چین کے دارالحکومت بیجنگ کے چائنا ورلڈ ہوٹل میں منعقدہ پاک-چین B2B بزنس کانفرنس کو بے پناہ کامیابی اور مثبت ردعمل ملا ہے۔ ال پاکستان مائین اونرز ایسوسییشن خصوصاً بورڈ آف انویسٹمنٹ اور حکومت پاکستان کے انتہائی مشکور ھیں جنہوں نے اس مشترکہ پلیٹ فارم کو فروغِ اور پاکستان و چین کے مائین اونرز و سرمایہ کاروں کی باہمی اقتصادی تعلقات کا ذریعہ بنایا۔

کانفرنس کا سب سے روشن پہلو پاکستان کے معدنی وسائل، خاص طور پر میٹالک معدنیات (Metallic Minerals) میں چینی سرمایہ کاروں کی گہری دلچسپی تھی۔ چینی کمپنیوں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ وہ پاکستان کے معدنی شعبے میں کثیر سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں، بالخصوص کوپر، گولڈ، آئرن اور دیگر قیمتی دھاتیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ نہ صرف مائننگ بلکہ جدید ترین پراسیسنگ پلانٹس لگانے کے خواہشمند ہیں اور ان کے پاس اس کے لیے جدید ترین سروے اور ٹیکنالوجی کی سہولیات موجود ہیں۔

چینی وفد نے سرمایہ کاری کی راہ میں حائل دو بڑی رکاوٹوں کی جانب نشاندہی کی:

  1. مائین وزٹ کے حوالے سے No Objection Certificate (NOC) کے حصول میں دشواری۔
  2. مائنینگ آپریشن کے حوالے سے واضع سیکیورٹی (SOPs) کا فقدان و مشکلات۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ان خاص اضلاع اور علاقوں کے لیے NOC کے اجراء کے عمل کو آسان اور تیز تر بنائے، جہاں امن و امان کی صورت حال مستحکم ہے اور دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگر یہ رکاوٹیں دور ہو جائیں تو چینی سرمایہ کار بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ساتھ پاکستان آئیں گے۔

اس موقع پر، آل پاکستان مائنرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئرمین اور فرنٹیئر مائنرز ایسوسی ایشن کے صدر، شیر بندی خان مروت نے، چینی سرمایہ کاروں کی آواز کو اٹھاتے ہوئے یقین دلایا کہ ان کی ایسوسی ایشن اس اہم معاملے کو متعلقہ حکام کے ساتھ وفاقی اور صوبائی سطح پر ہر ممکن طور پر اٹھائے گی اور اس کا فوری حل نکالنے کی کوشش کرے گی۔

کانفرنس کے مثبت نتائج کے پیشِ نظر، تین بڑی چینی مائننگ کمپنیوں کے نمائندگان اکتوبر 2024 میں پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران، آل پاکستان مائنرز ایسوسی ایشن کے صدر انہیں مختلف لیز ہولڈرز کی تفصیلات اور لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس پیش کریں گے، جس کے بعد ممکنہ جوائنٹ وینچرز پر تفصیلی مذاکرات کا آغاز ہوگا۔

اس موقع پر پاکستانی لیز ہولڈرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے منرل اثاثوں کی Detailed Feasibility Reports اور معیاری لیبارٹری ٹیسٹ رپورٹس تیار کریں تاکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف بیرونی سرمایہ کاری کے راستے ہموار ہوں گے بلکہ ملک میں جدید، میکانائزڈ مائننگ اور پراسیسنگ انڈسٹری کی بنیاد پڑے گی، جو پاکستان کی معیشت کو مضبوطی فراہم کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔

یہ کانفرنس ثابت کرتی ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون، خصوصاً CPEC کے دوسرے مرحلے میں، نئی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔

Dated: 04/09/2025

پاک چین اقتصادی تعاون 2025

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top