پریس کانفرنس

خیبرپختونخوا میں معدنی لائسنسوں کے اجرا کے حوالے سے حالیہ الزامات اور قیاس آرائیوں پر فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے مورخہ 20 اکتوبر 2026 کو چیرمین شیربندی خان مروت اور صدر عزیز تنولی کی سربراہی میں کابنیہ، ایگزیکٹیو ممبران سمیت صوبہ بھر کے لیز ہولڈرز کے ہمراہ پشاور پریس کلب میں پریس میں پریس کانفرنس کیا۔جس میں درجہ زیل امور پر بات چیت کی گئی

۔ معدنی لائسنسوں کے اجرا سے متعلق الزامات:        بڑی تعداد میں معدنی لائسنس جاری ہونے کو بذاتِ خود بدعنوانی یا غیر قانونی الاٹمنٹ کا ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لائسنسوں کی تعداد، نوعیت اور قانونی حیثیت کو حقائق اور سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں دیکھا جائے۔ محکمہ معدنیات اس حوالے سے مستند اعداد و شمار عوام کے سامنے لائے۔

۔ معدنی لائسنس اور معدنی وسائل کی ملکیت میں فرق:      پراسپیکٹنگ لائسنس معدنیات کی تلاش جبکہ مائننگ لیز قانون کے مطابق معدنیات نکالنے کا مشروط حق دیتی ہے۔ یہ معدنی وسائل یا زمین کی مستقل ملکیت منتقل کرنے کے مترادف نہیں۔ محض لائسنس کے اجرا کو معدنی وسائل کی فروخت یا قبضے کے طور پر پیش کرنا گمراہ کن ہے۔

3۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کا خیرمقدم:     ہم معدنی شعبے میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ ملکی قوانین، شفاف طریقہ کار اور صوبے کے معاشی مفادات کے مطابق ہو۔ سرمایہ کاری سے روزگار، ریونیو، جدید ٹیکنالوجی اور معدنی برآمدات کو فروغ مل سکتا ہے۔

4۔ محکمہ معدنیات کے افسران کی حوصلہ شکنی نہ کی جائے:   غیر مصدقہ الزامات کی بنیاد پر پورے محکمہ معدنیات کو سیاسی تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔ اس سے ایماندار افسران کی حوصلہ شکنی، فیصلہ سازی میں تاخیر اور سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ احتساب ضرور ہو، لیکن اس کے نام پر محکمانہ نظام مفلوج نہ کیا جائے۔

۔ مشیر برائے معدنیات کی ہدایات اور قانونی اختیارات  :ڈاکٹر سید سرفراز علی شاہ کی جانب سے شفافیت اور نگرانی کے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں، تاہم معدنی معاملات میں *Prior Intimation* کو *Prior Approval* نہ بنایا جائے۔ منرل ٹائٹلز کمیٹی، اپیلیٹ ٹریبونل، لائسنسنگ اتھارٹی اور دیگر قانونی اداروں کے اختیارات برقرار رہیں۔ زیر التوا کیسز کی معلومات نگرانی کے لیے حاصل کی جائیں، لیکن فیصلوں کو اضافی منظوری سے مشروط کرکے مزید پیچیدگیاں اور تاخیر پیدا نہ کی جائے۔

۔ غیر قانونی الاٹمنٹس کی شفاف تحقیقات:     اگر کسی معدنی لائسنس یا لیز کے اجرا میں بے ضابطگی یا غیر قانونی اقدام کے شواہد موجود ہیں تو ان کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور بلاامتیاز تحقیقات کی جائیں۔ ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی ہو، تاہم قانونی لائسنس ہولڈرز اور جائز سرمایہ کاری کو متاثر نہ کیا جائے۔

اختتامی مؤقف:      فرنٹیئر مائن اونرز ایسوسی ایشن شفاف احتساب، قانون کی بالادستی اور سرمایہ کاری کے فروغ کی مکمل حمایت کرتی ہے۔ حکومت سے مطالبہ ہے کہ سیاسی الزامات اور غیر ضروری انتظامی رکاوٹوں کے بجائے معدنی شعبے کے حقیقی مسائل، بالخصوص کمرشل بارود کی بندش اور زیر التوا لائسنسنگ معاملات کے فوری حل پر توجہ دی جائے۔

پریس کانفرنس

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Scroll to top